تحریر: فروا بتول
حوزہ نیوز ایجنسی|
تاریخ میں بہت سے لوگوں نے حالات بدلنے کی کوشش کی، لیکن واقعہ کربلا اور امام حسینؑ کا نام وہ واحد مثال ہے جس نے ہر دور کے مظلوموں اور سچے لوگوں کو راستہ دکھایا ہے۔ امام حسینؑ کی جنگ کوئی سیاسی جنگ یا کرسی کی لڑائی نہیں تھی، بلکہ یہ ظلم ناانصافی اور انسان کی حرمت کی پامالی کے خلاف ایک بہت بڑا انقلاب تھا۔
۶۱ ہجری میں انسانیت، انصاف اور برابری کو بہت بڑا خطرہ تھا، اس وقت ایک ایسا ظالم نظام مسلط ہو چکا تھا جو لوگوں کو اپنا غلام بنانا چاہتا تھا اس اندھیرے اور خوف کے ماحول میں امام حسینؑ نے اپنی اپنے خاندان اور دوستوں کی قربانی دے کر سچ و جھوٹ اور ظلم و انصاف کے درمیان ایک ایسی لکیر کھینچ دی جسے دنیا کی کوئی طاقت نہیں مٹا سکتی۔
امام حسینؑ کے پیغام کی منفرد و لطیف باتیں:
اگر ہم امام حسینؑ کی اس عظیم جدوجہد کو سمجھنا چاہیں تو اس کے یہ اہم پہلو سامنے آتے ہیں:
ظلم کے آگے جھکنے سے انکار:
امام حسینؑ کا سب سے بڑا پیغام یہ ہے کہ ظالم کے سامنے کبھی سر مت جھکاؤ۔
آپ نے ثابت کیا کہ ظلم سہتے ہوئے ذلت کی زندگی جینے سے بہتر ہے کہ عزت کی موت کو گلے لگا لیا جائے۔
انسانی عزت بچانا:
آپ کا ایک بڑا مقصد انسان کی کھوئی ہوئی عزت واپس دلانا تھا جب معاشرے میں لوگوں کی جان اور عزت محفوظ نہ رہے اور حکمران خود کو قانون سے بالا تر سمجھنے لگے تو وہاں خاموش رہنا ظلم کا ساتھ دینے کے برابر ہے۔
نیکی پھیلانا اور برائی کو روکنا:
امام حسینؑ کا مقصد صرف نماز روزے تک محدود نہیں تھا بلکہ آپ کا مقصد معاشرے میں انصاف قائم کرنا لوگوں کو ان کے حقوق دلانا اور ظلم کے نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا تھا۔
دنیا بھر کے مفکرین کی نظر میں:
امام حسینؑ کا پیغام کسی ایک مذہب فرقے یا علاقے کے لیے نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے بڑے بڑے مفکرین نے آپ سے بہت کچھ سیکھا ہے۔
مہاتما گاندھی کہتا ہے: میں نے حسینؑ سے سیکھا ہے کہ مظلوم ہو کر بھی کیسے جیتا جاتا ہے۔
چارلس ڈکنز اور دوسرے مغربی مفکرین نے بھی مانا کہ امام حسینؑ کی جنگ صرف اصولوں، سچائی اور انسانیت کو بچانے کے لیے تھی۔
مشہور عیسائی مصنف انتون بارا لکھتا ہے:
اگر حسینؑ ہمارے ہوتے تو ہم دنیا کے ہر گاؤں اور ہر شہر میں ان کے نام کا پرچم لہراتے۔
آج کے دور میں کربلا کا پیغام:
آج کی دنیا میں بھی جہاں طاقتور لوگ غریبوں پر ظلم کرتے ہیں اور ناانصافی عام ہے۔ وہاں امام حسینؑ کی قربانی ہمیں راہ حیات دکھاتی ہے۔ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ اگر آپ سچائی کے راستے پر ہیں تو چاہے آپ اکیلے ہی کیوں نہ ہوں آپ کے پاس دولت اور طاقت نہ بھی ہو پھر بھی کبھی ظلم کے ساتھ سمجھوتہ نہ کریں۔
حرفِ آخر:
امام حسینؑ کی قربانی ایک ایسا چشمہ ہے جس سے ہر دور کا سچا اور درد دل رکھنے والا انسان روشنی لیتا رہے گا اور سیراب ہوتا رہے گا۔ آپ نے دنیا کو یہ سنہرا اصول دیا کہ ظالم کی تلوار پر ہمیشہ مظلوم کے خون کو فتح ملتی ہے۔ امام حسینؑ سچے معنوں میں انسانیت کے وہ عظیم رہنما ہیں جن کا نام اور کردار قیامت تک چمکتا رہے گا۔









آپ کا تبصرہ